پاکستانی بچوں کے قتل پر مولانا عبدالعزیز کاناقابلِ یقین موقف

AAziz

آج جبکے پوری پاکستانی قوم اور تمام اقوام کےلوگ اور انکی حکومتیں ہمارے بچوں کے قتل پر ایک آواز سے اس درندگی کے مذمت کر رہی ہیں، لال مسجد کے امام مولانا عبدالعزیز کو اتنی ہمت اور خدا کا خوف نھیں کہ اپنی ذبان سے طالبان کے اس ظلم کی کھلی مذمت کریں۔

یہ ایک انتہائ افسوسناک اور شرم کی بات ہے۔ ان جیسے علما پر لعنت ہو۔ ہم سب کو ایسے ظالم اور بوسیدہ خیالات کے حامل علما اور انکے پیروکاروں کو کھل کر بتا دینا چاہیے کہ ہم انھیں کسی بھی صورت میں پاکستانی بچوں کے قاتلوں کے حق میں دینی اور دنیاوی دلیلیں ایجاد کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

یہ وہی مولوی صاھب ہیں(ہمیں یاد ہے) جنہوں نے اپنی جان بچانے کیلیے برقعہ پہن کر بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ وقت آ گیا ھے کہ انکو اب اسی برقعے میں ملبوث کر کے کسی دور افتادہ مقام پر بھیج دیا جایے تا کہ ہماری قوم کی انکے بےوقوفانہ اور بزدلانہ خیالات سے جان ہی چھوٹ جاے۔

ہم نے ابتک مذھب کے ان اجارہ داروں کو نفرت پھیلانے کی کھلی چھٹی دیے رکھی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ھم سب ملکر نفرت کے ان جھوٹے عالموں کو کھل کر بتا دیں   کہ اگر انھیں ھمارے بچوں کا وحشیانہ قتل قتل نھیں لگتا تو پھر ھمارے معاشرے میں ان جیسے ظالموں کے لیے کوئ جگہ نہیں۔

میں ان سب پاکستانی شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے کل لال مسجد کے سامنے اکٹھے ھو کر اس جعلی عالم، اس ظالموں کے پٹھو کی کھلی مذمت کی۔

ایک ذندہ قوم کے طور پر ہمیں آج یہ سچا ارادہ کرنا چاہیے کہ آج سے ہم ان تمام علما کا کھلا محاسبہ کریں گے جو ہمارے ملک میں نفرت کے بیج بوتے ہیں اور جنہیں ظلم کو ظلم کہنے کی جراّت نہیں۔

Leave a Reply