نواز شریف کی نا اہلی اور ایک نیا سیاسی نعرہ: چور ای اوئے

پچھلے دنوں میرے پاکستان کے وزٹ کے دوران پاکستانی عدالت عظمہ نے نواز شریف کی سیاسی نا اہلی کا تاریخی فیصلہ دیا جو کہ پاکستانی جمہوریت کے مستقبل کے لئے شاید ایک خوش آیند بات ھے- جیسا کے آپ سب کو معلوم ھے کہ حکومت سے مغزولی کے بعد نواز شریف صاحب نے ایک کاروان کی صورت میں لاھور واپسی کا سفر کیا- یہاں اس سیاسی قافلے پر تنقید کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس کاروان کو ٹی وی پر دیکھتے ہوئے میں نے ایک اہم چیز دیکھی جس کا ذکر کرنا لازمی ہے-
یوں تو اس قافلے میں سابق وزیر اعظم کے مداحوں اور حواریوں کا جوش قابل دید تھا پر سڑکوں کے کنا روں پر کھڑے انکے سیاسی مخالفین کے نئے نعروں پر توجہ دینا اور انکی علامتی اھمیت سمجھنا بہت ضروری ہے. میں نے دیکھا کے جب بھی میڈیا نے اپنے کیمروں کا رخ سڑک کے کنارے کھڑے مخالفین کے طرف کیا تو ان لوگوں نے ھمیشہ ایک آواز میں یہ نعرہ بلند کیا: چور ای اوئے! میری عاجز رائے میں ھم سب کے لیئے اس نعرے کی اھمیت کو سمجھنا بہت اھم ہے.
آج کے دور میں کسی بھی سیاسی مقابلے میں اپنے مخالفین کو ایک نعرے یا ایک دو الفاظ میں واضح اور بے نقاب کر دینا بہت اہم سیاسی قدم ھوتا ہے. مثال کے طور پر امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ اور انکے حواریوں نے ھلری کلنٹن کے لیے Crooked Hillary کی اصطلاح استعمال کی جسکی وجہ سے ٹرمپ کیمپ کے لئے ھلری کلنٹن کو دفاعی سسیاست پر مجبور کرنا آسان ہو گیا- اسکے علاوہ، پروفیسر جارج لیکوف کی ریسرچ کے مطابق، جب بھی آپ اپنے مخالفین کے استعمال کردہ نعروں اور الفاط کے خلاف اپنا دفاع کرتے ہیں تو آپ نہ چاہتے ھوے بھی انھیں کے الفاظ کو مزید قوت عطا کرتے ہیں.
آب اسی چیز کو نواز شریف، اور باقی سارے سرمایہ دار طبقے کو بھی، کے سیا سی مستقبل میں دیکھیں. اب جب بھی وہ میدان سیاست میں واپس قدم رکھیں گے “چور ای اوئے” کا یہ نعرہ انکے استقبال کے لیئے موجود ھو گا. اور بجاے اپنے سیاسی پیغام کی فروغت کے انکا ذیادہ وقت یہ ثابت کرنے میں لگے گا کہ وہ چور نھیں ہیں. اور جتنا ذیادہ وقت وہ اپنے آپ کو “غیر چور ثابت کرنے میں لگائں گے اتنا ھی وہ اس پھندے میں پھنستے جایئں گے.
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس نعرے اور اسکے پیچھے چھپے بیغام کا اطلاق صرف نواز شریف پر ھی ھو گا یا یہ نعرہ ان سب کے خلاف بلند ھو گا جو اپنے آپ کو “حکمران خاندانوں” کا حصہ سمجھتے ہیں اور اپنی کالی دولت کے ذریعے پاکستان اور پاکستانی سیاست کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں- مجھے امید ھے کی اب جب بھی کوئی سرمایہ دار، آجر، جرنیل، یا حکومتی ملازم اپنی دولت کی نمائیش کرے گا تو لوگ بجاے اس سے متاثر ھونے کے انکی دولت کے اصل منبع کے بارے میں سوالات اٹھائیں گے. آور اگر جواب صحیح نہ ھوا تو پھر ھمیشہ اسی نعرے کی صدا آئے گی: چور ای اوئے!

Leave a Reply