اقتصادی نجکاری کے چند اہم نقصانات

جب سےنواز شریف صاحب پاکستانی سیاست میں آئے انہوں نے ملک کے معیشت کی نجکاری کو ہمارے تمام مسائل کے حل کے طور پر پیش کیا ہے- اگر آپکو یاد ہو، نجکاری کا سب سے پہلا اقدام نواز شریف کی پہلی حکومت میں مسلم کمرشل بینک کی منشا گروپ کو فروخت تھا- اس قومی نجکاری کے فلسفے کے مطابق نجی اور پرائیویٹ اداروں کو حکومتی اداروں کے مقابلے میں بہتر، موثر، اور منافع بخش سمجھا جاتا ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ پرائیویٹ ادارے اور کاروبار حکومتی اداروں کے مقابلے میں ذیادہ منافع بخش اور موثر ہو سکتے ہیں اور یہ سوچ اسوقت ان تمام ممالک میں غالب یے جہاں حکومت کے کامںوں اور اداروں کو منافع بخش بنا دیا گیا ہیے- علمِ معاشیات میں اس فلسفے کو نیو لبرلزم کہا جاتا ہے-
بنیادی طور پہ نیولبرلزم حالیہ اقتصادیات کا رخ انیسویں صدی کے ماہرِ اقتصادیات ایڈم سمتھ کے نظریات کی طرف موڑنے کا عمل یے اور اس کے چند اہم نقاط درجِ ذیل ہیں:
(1) تمام معاشی اور اقتصادی سرگرمی میں حکومت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہئے-
(2) تجارت بین الاقوامی ہونی چاہئے اور اس میں قومی حکومتوں کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہئے-
(3) بجائے حکومت کے قوانیں کے کمپنیوں کا آپس میں مقابلہ(competition) اور فری مارکٹ (Free Market) کو بطور کنٹرول قبول کرنا چاہئے- اسطرح اس کھلے مقابلے میں صرف بہتر کمپنیاں آگے آیئں گی اور ان کمپنیوں کے آپس میں مقابلے کے فوایئد صارفیں کو پہنچیں گے-
(4) کیونکہ سرمایہ دار ہمیشہ اپنا اضافی سرمایہ مزید سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں، جس سے لوگوں کے لئے نئی نوکریاں وجود میں آتی ہیں، اسلئے ان پر ٹیکس کم سے کم ہونا چاہئے تا کہ وہ ذیادہ سرمایہ مارکیٹ میں لگائیں اور مزید لوگوں کیلیے کام اور بہتر نوکریاں مہیا کریں-
(5) اسطرح قومی دولت بجاے حکومت اور “بد عنوان” انتظامیہ کے ہاتھوں ضائع ہونے کے مارکیٹ کے ذریعے براہِ راست لوگوں تک پہنچ جایے گی-

ظاہر ہے کہ یہ نیو لبرل اقتصادیات کے چند اہم نقات ہیں- ان اصولوں پی مبنی نظام اسوقت تقریبا” تمام دنیا پر چھا چکا ہے اور نواز شریف صاحب کی اقتصادی پالیسیاں انہیں نضریاتی اصولوں پر مبنی ہیں- اس میں کوئ شک نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ نظام کافی حد تک کامیاب رہا ہے لیکن اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وھاں پر اس نظام کی نفاظت سے پہلے زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی ہو چکی تھی اور قانون کی بالادستی کے علاوہ عوام کے حقوق بھی کافی حد تک محفوظ تھے- لیکن ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس نئے نظام میں امرا اور عام لوگوں کے درمیان معاشی فاصلہ انتہائی حد تک بڑہ گیا ہے اور جہاں چند لوگ بہت دولت مند ہوئے ہیں وہاں غربت اور افلاس میں بھی اضافہ ہوا ہے- ان اقتصادی پالیسیوں کا ترقی پذیر ممالک پر اس سے بہت ذیادہ گہرا اور منفی اثر پڑتا ہے- 1

معاشی تفرقے کے علاوہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ان اقتصادی پالیسیوں کے نقصانات سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے بہت خطرناک ہیں- یہ سب سمجھنے کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کی حکومت کس طرح عوام کی بہتری کیلئے لازمی ہے- اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کی ایک ملک اور اسکی حکومت کس طرح اپنے لوگوں کی وفاداری حاصل کرتی ہے- میں یہاں کیمرون کے فلسفی اور مفکر ایچلے ممبے کے خیالات سے استفادہ کر ریا ہوں- 2 ممبے کے مطابق کسے بھی حکومت کو اپنے آپ کو قانونی اور جائز منواینے کے لئے معاشرے میں حکومت اور عوام کے درمیان ایک “سماجی قرض” کا رشتہ استوار کرنا ھوتا ہے- جب عوام اپنے آپ کو حکومت کے ساتھ ایک سماجی قرض میں مشمول جانتے ہیں تو انکی وفاداریاں بجائے کسی متمول شخص اور پرائیویٹ گروپ کے ساتھ ہونے کے، حکومت اور ملک کے ساتھ منسلک رہتی ہیں-

کوئ بھی حکومت یہ سماجی قرض اپنی غریب پروا پالیسی، مفت تعلیم، سرکاری نظامِ صحت، اور بہت سی دیگر عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے قائم کرتی ہے- دوسرے الفاظ میں ریاست اور حکومت اپنے عوام کی وفاداری کی حقدار صرف اور صرف ایک فلاحی حکومت اور ریاست کے طور پر ہو سکتی ہے- ممبے کے مطابق تمام نئی آذاد شدہ ریاستیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، سب سے پہلے ایک حکومتی تنخوادار طبقے کی تخلیق کے ذریعے ایک قومی سماجی قرض اور حکومت اور عوام کے درمیان تعاون کے نظام کی بنیاد رکھتی ہیں- اس ضمن میں سرکاری نوکریاں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں- سرکاری نوکریاں نہ صرف دور دراز علاقوں میں شہریوں کو روزگار مہیا کرتی ہیں بلکہ ان علاقوں میں حکومت اور ریاست کے لئے اچھی اور مثبت سوج کا رجحان پیدا کرنے کے لئے بھی اہم ہیں- اسی لیا دیکھا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں عموما” جہاں حکومت کو صرف ایک شخص کی ضرورت ہو وہاں حکومت دو یا تین لوگوں کو ملازم رکھتی ہے- اس سے نہ صرف لوگوں کو روزگار ملتا ہے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ان نوکریوں کے ذریعے ملازمیں اور انکے خاندان کی نظروں میں حکومت اور ریاست کی اہمیت بھی قائم رہتی ہے- کسی بھی ترقی پذیر ریاست کے لئے اس طرح کی ملازمت کے مواقع پیدا کرنا انتہائ ضروری ہے-

اب اسکے مقابلے میں کسی بھی پرائویٹ کمپنی کی ترجیحات کا جائزہ لیں- کیوںکہ تمام نجی کمپنیوں کا واحد مقصد منافع کا حصول ہے اسلئیے وہ کبھی بھی ضرورت سے ذیادہ لوگوں کو ملازم نہیں رکھیں گے- بلکہ عموما” انکی کوشش یہ ہو گی کے کم ملازمیں سے ذائد کام لے سکیں- اور انکی کاوش یہ بھی ہو گی کے انکے ملازمین کی نوکریاں پکی نہ ہوں بلکہ کچی رہیں تا کہ وہ جب چاہیں ان ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیں- اس صورت میں جب عوام کو نہ تو نجی ملازمت سے فائدہ پہنچے اور نہ ہی انہیں حکومتی تحفظ حاصل ہو تو عوام کا دل ریاست اور حکومت سے اٹھ جاتا ہے اور انکی معاشرتی اور سیاسی وفاداریاں اس شخص اور گروہ کے ساتھ مل جاتی ہیں جن سے انکا معاشی مفاد منسلک ہو-

نتیجتا” جوں جوں ریاست اپنا رفاہِ عامہ کا کام کم کرتی ہے، توں توں عوام اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے نجی اداروں اور گروہوں کا رخ کرتے ہیں- مثالا”، افغانستان میں لوگ ملا عمر کے پاس اس وقت گئے جب انہیں انصاف حاصل کرنے میں اپنی حکومت کی طرف سے کوئ امید نہ رہی- اسی طرح پاکستان میں وہ جوان لوگ جن کے پاس نہ تو تعلیمی مواقع ہیں اور نہ ہی امیدِ روزگار وہی اکثر طالبان اور دوسری جہادی یا جرائم پیشہ تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں- یہ صرف ہوائی باتیں نہیں ہیں- تاذہ تریں تحقیق کے مطابق تمام دنیا مین مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی کے رجحان کے بڑہنے کا اس نئے اقتصادی نظام کے ساتھ براہِ راست تعلق ہے- گو نیو لبرلزم اعلانیہ طور پہ اس چیز کا پرچار نہیں کرتا پر دنیا میں جہاں بھی حکومت اور ریاست نے اپنے آپ کو عوام کی فلاح و بہبود سے مثتثنا قرار دیا ہے وہاں مذہبی اور انتہا پسند گروہوں کی قوت میں اضافہ ہوا ہے-(اس موضوع پر جان ریپلے کی کتاب بہت اہم ہے)

اب یہ بات ہم سب پر عیاں ہے کے پاکستان کے مثائل صرف معاشی نہیں بلکہ سیا سی، معاشرتی، علاقائی، اور عصبی بھی ہیں- ایسے حالات میں پاکستان کا سب سے پڑا مثلہ پاکستان کی قومی شناخت کا ہے- اور یہ مثلہ صرف آقتصادی نجکاری سے حل نہیں ہو سکتا- ان حالات میں ہمیں ایسی سیاسی اوراقتصادی پالیسی کی ضرورت ہے جو ہمیں ایک متحد قوم بنائے- ایک ایسی قوم جس کے شہریوں کو اپنی حکومت پر اعتماد ہو اور جو اپنے ملکی مفاد کو ذاتی مفاد سمجھیں اور یہ سب کچھ صرف پرایویٹ کمپنیاں نہیں کر سکتیں-اس کام میں ہماری حکومت کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا-

Leave a Reply