نو آبادیاتی نظام تعلیم  کے حالیہ پاکستان پر اثرات

گو کہ پچھلی دہائ میں پاکستان نے اعلا تعلیم اور بنیادی تعلیمی پالیسی میں کافی ترقی کی ہے، پاکستان کی ذیادہ تر تعلیمی پالیسیاں، تعلیمی نصاب اور تعلیم کی ترسیل کا نظام اب بھی نظریاتی طور پر ہمارے نو آبادیاتی دور غلامی کے  اثر میں ہے- اسکی وجہ سے تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھنے کے باوجود پاکستان کی اجتماعی اور مفکرانہ سوچ میں کوئ اتنا بڑا فرق نظر نہیں آتا۔ میرے اس دعوے کو سمجھنے کے کئے ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہو گا کہ نو آبادیاتی تعلیمی نظام سے میری کیا مراد ہے(اس کالم میں صرف بنیادی تعلیم کے بارے میں لکھ رہا ہوں اگر وقت ملا تو اعلا تعلیم پر بعد میں کچھ لکھوں گا)

نو آبادیاتی تعلیمی نظام تعلیم کا وہ نظام ہے جو برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی استعماری حکومت کے دوران قائم کیا- اس موضوع پر بہت سے مفکرین نے بہت اچھی تحقیق کی ہے جن میں بروس مکلی اور گوری وشواناتھن کا کام بہت اہم ہے  پر میرے لئے اس موضوع پر کینیا کے مفکر اور کلمکار انگوگی تھیانگو کا کام بہت اہم ہے کیونکہ وہ نہ صرف اس نظام کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اس نو آبادیاتی تعلیمی نظام کے منفی اثرات پر بھی توجہ دیتے ہیں-

قومی زبان کے تیں اہم مقاصد

انگوگی کی نظر میں کوئی بھی علاقائی یا قومی زبان اسکو استعمال کرنے والی برادری، قبیلے، یا قوم کی ذندگی میں تین اہم بنیادی کردار ادا کرتی ہے:

(1) کسی بھی معاشرے میں کا م کی تقسیم (Division of Labor) اور اس میں تمام لوگوں کے فرائیض کے سمجھنے کے لئے ایک مقامی یا قومی زبان ضروری ہے-

(2) ایک مشترکہ زبان کسی بھی معاشرے میں آپس میں بات چیت کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کیلیئے لازم ہے-

(3) ایک مشترکہ زبان کا سب سے اہم مقصد ایک معاشرے کی اہم تاریخ، داستانیں، کہانیاں، اور حکایات ایک نسل سے اگلی نسل تک پہنچانا ہے- اس لحاظ سے ایک زندہ قومی یا علاقائی زبان نہ صرف ایک دوسرےکو سمجھنے کیلئے ضروری ہے بلکہ اس کا سب سے اہم مقصد کسی بھی معاشرے کی ذاتی تاریخی پہچان کو محفوظ رکھنا اور اسکو اگلی نسل تک پہنچانا ہے-

نوآبادیاتی دور میں تعلیمی نظام کے منفی اثرات

انگوگی کے مطابق، نوآبادیاتی نظام میں جب علاقائی اور قومی زبانوں کی جگہ نوآبادیاتی آقاوں کی زبان نافظ کر دی جاتی ہے تو اس عمل کے انتہائ منفی اثرات آزادی کے بعد بھی جاری رہتے ہیں- استعماری نظام کے دوران کےچند نقصانات، انگوگی کے مطابق، درجِ ذئل ہیں:

(1) اس نظامِ تعلیم میں جب دیسی بچے اپنے گاوں یا محلے سے نکل کر انگریزی مدرسے میں داخل ہوتے ہیں تو ان پر اس تعلیم کا اثر معاشرتی، عقلی، اور نفسیاتی ہوتا ہے-

(2) معاشرتی لحاظ سے تمام بچےاور انکے والدیں یہ لازمی جانتے ہیں کی بغیر انگریزی پڑہے وہ اس نظام میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے-

(3) معاشرتی ضمن میں یہی بچے انگریزی پڑہنے کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب، تاریخ، اور باقی انگریزی علوم کو اپنی قومی تاریخ، ادب، اور علوم سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں کیونکہ ان بدیسی علوم کا جاننا نوآبادیاتی نظام میں انکی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے-

(4) نوآبادیاتی تعلیم کا سب سے بڑا منفی اثر نفسیاتی ہے- اس تعلیم کے دوران دیسی طلبا نہ صرف انگریزی تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ حصولِ تعلیم کے دوران وہ اپنے کلچر اور تاریخ کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں اور انگریزی زبان، ادب، اور کلچر کی بالادستی کو ذھنا” اور عملا”بہتر قبول کر لیتے ہیں- نتیجتا” یہ لوگ نہ صرف بدیسی اطوار کو اپنی ذاتی پہچان کا حصہ بنا لیتے ہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ دیسی کلچر اور اطوار کی نفرت بھی انکی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے-

نتیجتا” یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ نوآبادیاتی تعلیم کے سب سے منفی اثرات خود نفرتی اور اپنے دیسی کلچر کی نفرت ہیں- اور جب کوئی بھی انسان اپنے بنیادی کلچر سے متنفر ہو جاتا ہے تو کسی بھی بیرونی قوت کے لئے اسکو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے- یاد رہے کے ہندوستان میں انگریزی تعلیم کے نفاظ کا ایک اہم مقصد، بطور لارڈ میکالے، یہ بھی تھا کی دیسی لوگ دیسی ہی رہیں پر انکی سوچ “انگریزی بن جائے”- اب یہ بھی ذہن میں رکھیئے کہ دیسی لوگوں کو انگریزی پڑہانے کا مقصد انکو نئی سوچ اور نئے علوم سے لیس کرنا نہیں تھا- بلکہ اس نظامِ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ اتنا کچھ پڑھ لکھ جائیں کے انکے کے لیئے اپنے بدیسی حکمرانوں کے احکامات سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں آسانی ہو- اسی لئے ہندوستان میں نافظ شدہ انگریزی نظامِ تعلیم میں بجائےچیزون کے سمجھنے کے رٹے اور بنیادی لکھائی پڑہائی پر ذور تھاجسکی وجہ سے دیسی لوگ اچھے کلرک اور منشی تو بن سکتے تھے پر انکی سوچ نہ تو تنقیدی ہو سکتی تھی اور نہ ہی قائیدانہ- اسکے علاوہ جتنا ذیادہ وہ اپنے بنیادی کلچر سے دور ہو جاتے تھے انکو انکی نوآبادیاتی شخصی پہچان میں پھنساے رکھنا اور بھی آسان تھا- اب ہمیں معلوم ہے کہ انگریز کو ہندوستان میں ناکامی ہوئ جسکی بہت سی وجوہات ہیں پر اسکی سب سے اہم وجہ یہ بھی ہے کی ہندوستان میں دیسی ذبانوں کی ایک مکمل تاریخ موجود تھی اور انگریزی نصاب اس علم کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہا- اسکے علاوہ ہمارے قائیدیں اور سیاسی رہنماوں نے انگریزی علم اور دیسی علم کو ملا کر انگریز کے خلاف ایک موثر سیاسی لاہِ عمل ترتیب دیا جو کہ، اوروجوہات کے ساتھ ساتھ، ہماری آزادی کا سبب بنا- بہرحال یہاں میرا مقصد پاکستاں کی تحریکِ آزادی کی تاریخ دہرانا نہیں بلکہ، اس مختصر بحث کے بعد، پاکستان کے موجودہ نظامِ تعلیم پر ایک نظر ڈالنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ کیا یہ ایک آزاد و خودمختار ملک کا نظام ہے یا ابھٰی تک نوآبادیاتی اصولوں پر مبنی ہےتعلیم کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے یہ سمجحنا بھی لازم ہے کہ آخر ایک قومی نظامِ تعلیم کے مقاصد کیا ہیں- اس ضمر میں مجھےقومی تعلیم کی اہمیت اور مقاصدپر ارنسٹ گلنر کے خیالات بہت اہم لگتے ہیں- گلنر کی رائے میں ایک قومی نظامِ تعلیم دو درجوں پر قومی سالمیت پر اثر انداز ہوتا ہے:

(1) قومی نظامِ تعلیم کا ایک مقصد یہ ہے کہ کسی بھی قوم کے شہریوں کو کم ازکم اتنی تعلیم ضرور دی جائے کہ وہ قومی معیشت میں مختلف قسم کے کام سرآنجام دے سکیں-

(2) قومی نظامِ تعلیم کا دوسرا، اور ذیادہ اہم، مقصد یہ ہے کے تعلیم کے ذریعے مسلسل ایک ایسے پڑھے لکھے طبقے کی تربیت کی جائے جو نہ صرف اوپر درجے کے انتظامی اور تکنیکی فرائض سرانجام دے سکے بلکہ جو ایک اعلا قومی سماج تشکیل کرنے میں مشغول رہے- اب یہ ذہن میں رکھئے کہ گلنر کے لئے ایک اعلا قومی سماج (National High Culture) کی تشکیل کسی بھی قوم کی بقا اور ترقی کے لئے بہت ضروری ہے- لحاظہ گلنر کا نظریہ یہ ہے کہ جب ایک قوم ایک مرکزی اعلا سماج بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس قوم کے تمام لوگ اس قومی منصوبے کا حصہ بننے کے لئے وہ سب چیزیں سیکھنے کے خواہشمند ہو جاتے ہیں جن کی بنا وہ اپنے آپ کواس مرکزی قوی سماج کا حصہ بنا سکیں اور اسطرح اپنے علاقائی اور قومی حقوق کا تحفظ کر سکیں-

تعلیم اس طرح نہ صرف لوگوں کو مختلف پیشوں کے لئے تیار کرتی ہے بلکہ حصولِ تعلیم کے دوران انکو قومیت اور قوم پروری کی تعلیم بھی دی جاتی ہے- اب یہ چند سوچیں اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے، پاکستان کے موجودہ نظامِ تعلیم پر میرے بقیہ خیالات پڑہیے-

پاکستان کا موجودہ نظامِ تعلیم

پاکستاں کا بنیادی اور اعلا تعلیمی نظام اب بھی دو دھڑوں پر مشتمل ہے: سرکاری سکول اور پرائویٹ سکول- مزید پرایویٹ سکول بھی انگلش میڈیم اور مذہبی مدارس میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں- اسی طرح اعلا تعلیم بھی سرکاری اور نجی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تقسیم ہے-

سرکاری سکول

بنیادی تعلیم کے سرکاری سکول اب بھی نوآبادیاتی نظام پر چل رہے ہیں- ان سکولوں میں اب بھی علوم کو سمجھنے اور ان پر تنقیدی سوچ سے سوچنے کی بجائے رٹے پر ذور ہے- کیوںکہ تمام طلبا کو ہشتم اور میٹرک کے امتحانات صوبائ یا وفاقی بورڈ کے تحت دینا پڑتے ہیں اسلیئے تمام سکول آٹھویں اور دسویں جماعت کا سارا سال بورڈ کے امتحان کی تیاری پر صرف کرتے ہیں- ظاہر ہے کہ اگر اساتذہ اور طلبا کی تمام توجہ بورڈ کے امتحان کی تیاری پر ہو گی تو ان کے پاس رٹے کے علاوہ مضامین پر علمی بحث و مباحثے کا وقت ہی نہیں ہو گا- نتیجتا” یہ طلبا اب بھی اسی طرح کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جسکی بنیاد ہمارے برطانوی آقاوں نے رکھی تھی: ایسی تعلیم جو لوگوں کو اچھا کلرک تو بنا سکتی ہے پر انہیں تنقیدی سوچ اور فکر سے روشناس نہیں کروا سکتی-

ان سکولوں میں اساتذہ کا نہ تو تعلیمی معیار کوئ اتنا اچھا ہے اور نہ ہے انکو بہتر تنخواہیں اور باقی سہولیات یا تربیت کے مواقع مہیا کیے جاتے ہیں- نتیجتا” سرکاری سکولوں کے ذیادہ تر اساتذہ بہت مشکل حالات میں اپنی تدریسی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کرتے ہیں- اس کے علاوہ ان سرکاری سکولوں میں نافظ شدہ نصاب بھی یا تو بہت پرانا ہے یے اور یا ان لوگوں کا مرتب شدہ ہے جنکو جدید تعلیمی تحقیق کا کچھ بھی علم نہیں- اگر دیہی سرکاری سکولوں پر نظر ڈالی جائے تو حالات اور بھی افسوسناک ہیں- ذیادہ تر دیہی سکولوں میں نہ تو عمارات اور باقی سہولتیں بہتر حال میں ہیں اور نہ ہی ان سکولوں میں اساتذہ اور سٹاف کی تعداد اور تربیت دیہی طلبا کے ضرورت کے مطابق ہے- ان سب عوامل کی وجہ سے سرکاری سکول اس وقت تعلیم کی قومی ترسیل کے بنیادی فرائض ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں- یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سرکاری سکول نہ تو طلبا کو بنیادی ہنر سکھا رہے ہیں اور نہ ہی کوئ ایسی سوچ پیدا کر رہے ہیں جو پاکستان کے اعلا قومی سماج کی ترقی اور سالمیت کیلئے مددگار ہو- ایک لحاظ سے اس ضمن میں ہم اب بھی وہی نوآبادیاتی ذہنیت پڑہا رہے ہیں جو برطانیہ نے اپنے دورِحکومت میں نافظ کی تھی-

نجی سکول
انگلش میڈیم:

نجی سکولوں میں اسوقت تمام پاکستانی شہروں میں انگلش میڈیم سکولوں کا بہت ذیادہ رواج ہے انمیں سے کچھ سکول سسٹم اب بھی قومی نصاب کا استعمال کرتے ہیں اور انگریزی کو صرف اس نصاب کی تدریس کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے سکول میری نظر میں اب بھی نصاب کے علاوہ بچوں کو انکے اپنے کلچر ، تا ریخ اور ثقاوت سے کچھ حد تک منسلک رکھتے ہیں۔ مثال کے طار پر آرمی پبلک سکول سسٹم اور کچھ پرانے ماڈل سکول۔ مگرگو کہ ان سکولوں میں قومی ذبان اور ثقافت کو پڑہایا جاتا ہے، پھر بھی ان سکولوں میں تنقیدی سوچ مضبوط کرنے پر اتنی ذیادہ توجہ نہیں دی جاتی- اسکے نتیجے میں ان انگلش میڈیم سکولوں کے طلبا اپنے کلچر اور ثقافت کا علم تو رکھتے ہیں پر اس پر گہرا غوروفکر کرنے کی مہارت حاصل نہیں کر پاتے- ان سکولوں کے طلبا اس طرح کامیاب فوجی اور سول افسر تو بن سکتے ہیں پر قوم کے بارے میں نئے خیالات اور نئے راستے سوچنے کی تنقیدی سوچ نہیں رکھتے- یہاں یہ کہنا حق بجانب ہو گا کے ان سکولوں کا مقصد بھی نو آبادیاتی ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ ان سکولوں میں پاکستان کا حالیہ معاشی اور کلاس سسٹم سچ کے طور پر پڑہایا جاتا ہے-

لیکن ذیادہ تر بڑے پرائویٹ سکول اب برطانوی نصاب استعمال کر رہے ہیں اور ان سکولوں میں ہماری مقامی تاریخ، ثقافت، اور ادب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ لحاظہ ان سکولوں میں تعلیم پانے والے طلبا کو تنقیدی سوچ تو سکھائ جاتی ہے پر اس سوچ کا منبع اور رجحان خالص مغربی ہے- مزید بر آں یہ سکول اس چیز پر فخر کرتے ہیں کہ انکے ذیادہ تر طلبا امریکہ، کینیڈا، اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں داخلے حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں- اس لئے ان سکولوں کا سارا نصاب اور باقی تدریسی کاروایوں کو فوکس ان طلبا کو بیرونِ ملک داخلے دلوانا ہے- اس کے نتیجے میں ان سکولوں کے طلبا نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو تب کامیاب سمجھتے ہیں جب کوئ غیر ملکی یونیورسٹی انکو داخلہ دے. اس صورت میں یہ کہنا بجا ہو گا کے ان طلبا کے لیئے کامیابی صرف پاکستان سے فرار پر مبنی ہے- اور ان میں سے جو پاکستان سے باہر نہیں جا سکتے وہ اپنے آپ کو ناکامیاب سمجھتے ہیں- یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ان سکولوں کے طلبا نہ صرف پاکستان کے سب سے اونچے معاشی طبقے سے آتے ہیں بلکہ وہ اپنے طبقے کے باہر کے تمام پاکستانیوں کو اپنے سے کمتر جانتے ہیں- اس طرح نجی اداروں میں یا تو تنقیدی سوچ نہیں پڑھائ جا رہی اور اگر پڑھائ بھی جارہی ہے تو اس سوچ کا رخ اور رجحان یورپ اور امریکہ کی طرف ہے۔ اب اس صورت میں یہ دو پرائویٹ تعلیمی نظام دو مخطلف طریقون سے پاکستان کے لئے اچھے اور ذمہ دار شہری بنانے میں ناکام ہورہے ہیں-

مذہبی مدارس:

پاکستان کے نظامِ تعلیم کا ایک اور بڑا حصہ مذہبی مدارس ہیں۔ یہ مدارس عموما” یا تو چندے اور صدقے کے پیسے سے چلائے جاتے ہیں اور یا کسی سلامی سیاسی پارٹی اور کئی دفع سعودی عرب یا اور مسلمان ملکوں کے عطیے پر چلائے جاتے ہیں۔ یہاں یہ یاد رکھنا لازم ہے کہ یہ مذہبی مدارس عموما” غریب اور یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں اور ہمیں کبھی بھی انکی یہ اہمیت بھلانا نہیں چاہئے۔ پر ان مدارس میں بھی طلبا کو پاکستان کے شہری بننے کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ بلکہ اب تو ذیادہ تر مدارس جو حکومت کی پہنچ سے باہر ہیں اپنے طلبا کو جہادی تعلیم و تربیت دے رہے ہیں اور اس تعلیم کی بدولت ان طلبا کی وفاداریاں بجائے اپنی قوم کے ساتھ ہونے کے یا تو سیاسی پارٹیوں کے ساتھ منسلک ہیں اور یا انکے غیرملکی کفیلوں کے ساتھ اور یا انکے مدرسے کے مذہبی فرقے کے ساتھ۔ اسطرح تعلیم کی ترسیل کے یہ ادارے بھی ذیادہ تر پاکستانیت کی تعلیم دینے کی بجائے اکثر پاکستان دشمنی کو بڑہانے کا سبب بنتے ہیں۔

مستقبل کا لائحہِ عمل

اگر ہم اس بات پر متفق ہیں کے بنیادی تعلیم کا ایک اہم مقصد طلبا کو اپنے کلچر سے متعارف کروانا ہے تا کہ تمام برآمد شدہ سوچ کو اپنے کلچر کی کسوٹی پر پرکھ سکیں اور اس طرح پاکستان کے روشن خیال اور ذمہ دار شہری بن سکیں تو پھر ہمیں اپنا نظامِ تعلیم تبدیل کرنا ہو گا- یہ تبدیلی ایسی ہونی چاہئے جس میں ہم مغرب میں موجود اہم تعلیمی اور ثقافتی تحقیق و ترقی کو سوچ سمجھ کر اپنائیں اور ایک ایسا نظام قائم کریں جو کہ قومی اور بین الاقوامی سوچ اور تحقیق سے مستفید ہو سکے- ایسے نظام میں نہ تو ہمیں اپنی قومی ثقافت کو قربان کرنا پڑے گا اور نہ ہی مغرب میں موجود بہتر سوچ اور خیالات کو رد کرنے کی ضرورت ہو گی-

بنیادی تعلیم میں اسطرح قومی اور علاقائ ذبانوں اور ادب کے ساتھ انگریزی ذبان اور ادب اسطرح سے پڑہایا جانا چاییے کہ دونوں کے بہترین اوصاف ھماری ثقافت اور قومی سوچ کا حصہ بن جایئں- اب یہ سب کچھ کرنے کے لیئے ہمیں تعلیم پر اپنے قومی بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرنا پڑے گا اور سکول و مدارس بنانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور سکول سسٹم کے ناظمین کی بہتر تربیت کے وسائیل بھی مھیا کرنے ہوںگے- یہ سب کچھ اور اس سے بھی ذیادہ بہت   جلدکرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہماری معاشی ترقی اور دفاعی قوت بھی پاکستان کے مستقبل کو بچانے میں ناکام ریے گی

  3 comments for “نو آبادیاتی نظام تعلیم  کے حالیہ پاکستان پر اثرات

  1. ziadogar
    September 8, 2017 at 3:31 am

    Thank you Dr. Sb. Its much enlightening. I wish you had included Paulo Freire in the loop with Ngugi and Gouri. The points raised by you are interesting and critical because all our education targets the high marks in examination and so there’s an utter absence of critical thinking. The absence of critical thinking in any nation would make them slaves of the system rather than leaders of the system. Besides, the age old and rusted system being followed by us, we are serving the benefit of the capitalist by producing nothing more than type of followers he wishes. The need of the hour is to seek out new meaning and develop a humanistic hermeneutic system rather than keeping things restricted to Eurocentrism or islamic hermeneutics, as we do in our universities and madrassas system. It is pretty right we are producing our cultural haters and that generates another difficulty in the identity of a particular individual and gives birth to a hybridised individual who is still more harmful because of the doubtful loyalties that person may project. The need is to develop a kind of syncretism with the times and cultures we are inhabiting and reform our primary education system. Not only the education system but also the democratic system needs a thorough overhaul. one last thing, we do not encourage the students in Pakistan to read books, what to talk of critically read the books. Philosophers and theorists are completely ignored even at the higher levels of education. I think reading philosophy in every area of studies must be declared compulsory. only this is the way to develop the minds of students to ask questions instead of making them mass minds.

    • Masood Raja
      September 8, 2017 at 8:51 am

      Thank you for your thoughts, Dr. Zia. I agree Freire is very pertinent here; I had not focused on his work because I was looking at the educational system and its impact on the national identity. I will probably write a separate article about critical pedagogy and Freire.

Leave a Reply