تنقیدی تدریس کی اہمیت

اس مضمون میں میرے دو مقاصد ہیں- ایک توتعلیم کے بارے میں پاولو فریرے کے اہم تصورات کی وضاحت کرنا اور دوسرا پاکستان کے نظامِ تعلیم کے لئے اس تدریسی فلسفے کی اہمیت کو اجاگر کرنا-
فریرے اپنی انتہای اہم کتاب “پیڈاگوجی اوف دی اوپریسڈ” میں دو مخالف تدریسی نظاموں کو زیرِ بحث لاتا ہے: بنکاری اور تنقیدی تدریس- پر اس سے پہلے کہ میں ان دو تدریسی نظاموں کو بحث میں لاوں پہلے یہ سمجھنا لازمی ہے کہ فریرے آخر کیوں تعلیم اور نظامِ تعلیم پر اتنا ذور دیتا ہے- فریرے کے مطابق دنیاوی نظام بنیادی طور پر ظالمانہ اور ناانصافانہ ہے جس میں دو اہم انسانی دھڑے ہیں: ظالم اور مظلوم. ظالمانہ نظام مظلوموں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کی دنیا قدرتی طور پر ایسی ہی ہے جس میں کچھ لوگوں کو دوسروں پر مالی اور دنیاوی فوقیت حاصل ہے- اسکے مقابلے میں مظلوم طبقہ اپنے حقوق اور اپنی انسانیت برابر منوانے کے لئے مسلسل جدو جہد کرتا ہے- یہ جدو جہد، فریرے کے مطابق، “صرف اس لئے ممکن ہے انسانوں کو غیر انسان اور دوسرے انسانوں سے کمتر سمجھنے کی سوچ قدرتی نہیں بلکہ ایک ناانصافانہ نظام کی پیداوار ہے- اسلئے عوام اسکے خلاف اکثر صف آرا ہوتے رہتے ہیں-” اس تاریخی جدوجہد میں مظلوم طبقہ کے دو فرائض ہیں: “اپنے آپ کو استعماری نظام سے آذاد کروانا اور استعماری طبقے کو بھی انکی ظالمانہ سوچ اور ناانصافانہ اطوار سے رہا کرنا-” اسطرح مظلوم طبقہ دراصل معاشرے کی بہتری کا ضامن ہے- اور مظلوم طبقے کو، فتح کی صورت میں، اپنے سابقہ آمروں کی طرح آمر بننے سے بچانے کے لئے بھی تنقیدی تدریس کی ضرورت ہے-
بنکاری تدریس:
فریرے کے مطابق بنکاری نظامِ تعلیم میں استاد کی مثال ایک بھرے ہوے برتن کی مانند ہے جبکہ شاگرد ایک خالی برتن کی طرح سمجھا جاتا ہے- اس سوچ کے مطابق استاد کا کام اپنی علمی دولت کو شاگرد کے خالی کاسے میں منتقل کرنا ہے- اب اس عمل میں شاگرد کا کام صرف غیر فعال وصول کنندہ کا سا ہے جو کہ نہ صرف اس دولت کو وصول کرے بلکہ بوقتِ ضرورت اس کو من و عن، اپنی سوچ اسمیں شامل کئے بغیر، پیش کر سکے- بنکاری فلسفہ تدریس کے چند اہم نقاط، بقول فریرے، درجِ ذیل ہیں:
(1) اس نظام میں استاد پڑہاتا ہے اور شاگرد پڑہتے ہیں-
(2) استاد ہر شے جانتا ہے اور شاگرد کچھ نہیں جانتے-
(3) استاد سوچ سکتا ہے اور شاگردوں کے بارے میں صرف سوچا جاتا ہے (شاگرد خود اپنی تعلیم کے بارے میں کوئ سوچ نہیں رکھتے)
(4) استاد بولتا ہے اور شاگرد خاموشی سے سنتے ہیں-
(5) استاد منظم ہے اور شاگرد تنظیم شدہ-
(6) استاد عمل کرتا ہے اور شاگرد صرف استاد کی مرضی کے مطابق عمل کرتے ہیں-
(7) استاد نصاب کی ترتیب دیتا ہے اور شاگرد، جن کی نصاب کے بارے میں رائے نہیں پوچھی جاتی، اس نصاب کو اپناتے ہیں-
(8) استاد اپنی علمی سعادت کو شاگردوں پر اپنی قوت کا ذریعہ جانتا ہے اور اپنی قوت کو شاگردوں کی آذادی سلب کرنے میں استعمال کرتا ہے-
(9) استاد اس نظامِ تعلیم میں فاعل کا درجہ رکھتا ہے جبکہ شاگرد مفعول سمجھے جاتے ہیں-
اب اس سب سے ایک شے واضح ہو جاتی ہے کہ بنکاری نظامِ تدریس میں طلبا کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی اور انہیں کیا پڑہنا ہے اور کیسے پڑہنا ہے پہلے سے ہی مقررہ ہوتا ہے- یہ نظام اس طرح اس نوآبادیاتی نظام سے کوئی اتنا مختلف نہیں جس کا ذکر میں نے ایک پہلے مضمون میں کیا تھا- فریرے کے مطابق جب طلبا بنکاری نظامِ تدریس سے گذرتے ہیں تو انکی سوچ اور اطوار ایک خاص رنگ میں رنگے جاتے ہیں، جن کا ذکر فریرے کچھ ایسے کرتا ہے:
اس نظام میں طلبا جتنی ذیادہ توانائی انکو دئے ہوئے اسباق کو یاد رکھنے پر صرف کرتے ہیں انکے پاس ذاتی تنقیدی سوچ کو مضبوط بنانے کیلئے اتنا ہی کم وقت ہوتا ہے- اور جتنا ذیادہ وہ اپنا یہ غیر فعال کردار قبول کر لیتے انکی ذات اتنی ہی ذیادہ ظالم اور آمرانہ نظام کے شکنجے میں پھنستی جاتی ہے- اسطرح بنکاری نظامِ تعلیم طلبا کی تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو شل کر کے انکو آمروں کے نظام کا پرزہ بنائے رکھتا ہے- اور کیونکہ ان کے ہاتھ اپنے معاشرے پر تنقیدی نظر سے دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ صرف نظام کی تقلید میں مصروف رہتے ہیں اور اسکو نئی سوچ میں ڈھالنے کی صلاحیت سے معذور رہتے ہیں-
اب بنکاری نظام کی ان چیدہ چیدہ خصوصیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ذرا پاکستان کے حالیہ نظامِ تعلیم پر ایک نظر ڈالئے- پاکستانی تعلیمی نظام کے ہر درجے پر یہی بنکاری نظام نافظ ہے- سکولوں اور یونیورسٹیوں کا مقصد صرف نصاب پڑھانا ہے اور اس نصاب کو چننے اور نافظ کرنے میں طلبا، اور بعذ اوقات اساتذہ، کا کوئی کردار نہیں- اسکے علاوہ طلبا کسی بھی لیول پر موجودہ نظام یا نصاب پر تنقیدی نظر ڈالنے کی تربیت نہیں حاصل کر رہے بلکہ انکے لیئے صرف نصاب کو جاننا ہی اہم ہے- مثال کے طور پر اگر ایک طالب علم معاشیات پڑھ رہا ہے تو اسے صرف حالیہ معاشیات کے اصول ہی پڑہائے جائیں گے، ان اصولوں پر تنقیدی سوچ رکھنا نہیں پڑہایا جائے گا- یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستانی تعلیمی نظام اس بنکاری فلسفے کی وجہ سے نوجوانوں کو تقلید کی تربیت دے رہا ہے کیونکہ اس نظام میں انکی کامیابی کی ضامن نئی اور منفرد سوچ نہیں بلکہ پرانی سوچ اور نصابی علم کا جاننا ہی انکے تعلیمی سفر کی آخری منزل ہے- اسطرح ہمارا نظامِ تعلیم اب بھی نو آبادیاتی ہے اور اب بھی ہمارے معاشرےکےاونچے طبقے کی بقا کے ضامن کا کردار ادا کر رہا ہے-
تنقیدی تدریس:
تنقیدی تدریس کی بحث شروع کرنے سے پہلے (یہاں یہ ذہن میں رکھیں کے فریرے خود “تنقیدی تدریس” کا آصطلاح استعمال نہیں کرتا لیکن جس نظامِ تدریس کو وہ زیرِ بحث لاتا ہے اسے آج کل تنقیدی تدریس کہا جاتا ہے)، فریرے ذبان یا الفاظ کی اہمیت زیرِ بحث لاتا ہے- فریرے کے مطابق “ہر سچا لفظ ایک لفظ ہونے کے ساتھ عمل بھی ہوتا ہے-” اسطرح سچا لفظ بولنا اور لکھنا بھی کسی طرح راست عمل سے مختلف نہیں- اسی طرح امنے حق میں بولنا ہر انسان کا فطری حق ہے- اور اس دنیا میں ہمارا ایک اہم کام بطور انسان یہ ہے کہ ہم “دنیا کو وہ نام دیں جس سے دنیا بدل سکے-” لیکن یہ سچا لفظ نہ تو کوئی اکیلے بول سکتا ہے اور نہ کسی اور کے نام مین، بلکہ اس سچ کو بولنے کے لئے تمام مظلوم طبقے کو مل کر وہ الفاظ بولنے ہونگے جن سے دنیا بدل جائے- اور یہ سب کرنے کے لئے آپس میں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے- ایک ایسا ڈایئلاگ جو باہمی محبت پر مبنی ہو-
اس حساب سے تنقیدی تدریس وہ تدریس ہے جس میں بنکاری نظام کی بجائے “سوال پوچھنے والی تعلیم” (تنقیدی تدریس) کے ذریعے انسان دنیا کے ساتھ اپنے تعلق پر سوچیں اور سوال پوچھیں- الغرض اسطرح کی تعلیم جس میں “سوچ کو ن صرف دنیا کا شعور ہو بلکہ سوچنے کا شعور بھی ہو-”
پاکستان کے لئے پھر یہ تدریس ایسی تدریس ہو گی جس میں طلبا نہ صرف علم حاصل کریں بلکہ اس علم کے سفر میں دئے گئے علم کت بارے میں تنقیدی شعور سے سوچ بھی سکیں- اور اس سفر میں اساتذہ پر بھی یہ لازم ہے کہ وہ طلبا سے سیکھیں اور انکو تعلیمی سرگرمیوں میں فعال شرکا کا درجہ دیں- فریرے اپنی کتاب اساتذہ اور طلبا کے درمیان اس رشتے کو استوار کرنے کے تمام مرحلے بیان کرتا ہے جو کہ میں یہاں ذیرِ بحث نہیں لانا چاہتا پر ان تمام مراحل کا مدومدار اس ساوچ پر ہے کہ تعلیم کا اہم مقصد طلبا کو اپنے معاشرے اور اسکو بقیا نظاموں پر تنقیدی نظر ڈالنے کی تعلیم دی جائے اور ایسی ہی تعلیم انہیں ذہنی غلامی سے آذاد کروا سکتی ہے-

اس کے جواب میں کچھ اساتذہ اور سکول منظمین یہ کہیں گے کہ ان کی ذمہ داری ایک مقرر شدہ نصاب پڑہانا ہے اور اسکے علاوہ طلبا کو تنقیدی سوچ پڑہانا نہ تو ان کا کام ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کی اجاذت دی جائے گی- اب یہ ذہن میں رکھیے کہ فریرے کی نظر میں یہ تنقیدی تدریس انقلابی تدریس ہے جس میں مفکر اور اساتذہ سکول سسٹم سے باہر مزدوروں، کسانوں اور دوسرے غریب لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں- لیکن اسکا استعمال حالیہ سکول سسٹم میں بھی ممکن ہے- ہم اپنی تدریس کے دوران طلبا کو کتبی نصاب کو اپنی روز کی ذندگی کی روشنی میں دیکھنے کی تعلیم دے سکتے ہیں- اسی طرح بجائے نصاب کو عین حق کے طور پر پڑہانے کے ہم انہیں نصاب پر تنقید کرنے کی تربیت بھی دے سکتے ہیں- اس دوران ہم اپنے طلبا سے یہ بھی سیکھ سکتے ہیں کہ انکو پڑھانے کی کونسی مشق انکے لئے سب سے ذیادہ موثر ہے- الغرض طلبا کو انکی اپنی تعلیم میں حصہ دار بنا نے کے مختلف طریقے ہیں-

چند ممکنہ تنقیدی تدریسی اقدامات
تمام اساتذہ اگر چاہیں تو اپنی کلاسوں میں کچھ نہ کچھ تنقیدی تدریسی طریقے استعمال کر سکتے ہیں- مثال کے طور پر اگر آپ بزنس یا معاشیات پڑہا رہے ہیں تو بجائے حالیہ غالب نظام من و عن پڑہانے کے اس نظام پر تنقیدی ذاویہ نظر بھی ذہن میں لائیں اور اسکے ساتھ اپنے طلبا کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ وہ اس نظام میں اپنی ذندگی کے بارے میں سوچیں اور پھر ان خیالات کا اذہار کریں- اسی طرح ادب کی کلاسوں میں بھی طلبا کو کتاب سے باہر کی دنیا کے بارے میں سوچنے کی عادت ڈال سکتے ہیں- الغرض اساتذہ کی کوشش یہ ہونا چاہئے کہ انکے شاگرد بجائے موجودہ نظام کے غلام بننے کے اسکے نقاد بنیں اور پھر ایک نیا اور پر انصاف نظام سوچیں-
اگر ہم نے طلبا کو جمہوریت کی اہمیت سکھانا ہے تو جہاں تک ممکن ہو ہمارا طریقہ تدریس بھی جمہوری ہونا چاہیے- میں اپنی کلاسوں میں بعض اوقات طلبا کو کسی بھی مشق یا امتحان کو تبدیل کرنے کے لئے انہیں اس پر ووٹ کرنے کی دعوت دیتا ہوں- اس مشق میں طلبا خود نہ صرف ایسا طریقہِ امتحان چنتے ہیں جو انکے لئے بہتر ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ جمہوریت اور جمہوری نظام کا بنیادی طریقِ کار بھی سیکھتے ہیں-

الغرض طلبا کو انکی اپنی تعلیم میں فاعلی حیثیت دینے کے بہت سے طریقے ہیں اور ہمیں اور بھی نئے اور موثر طریقوں پر مزید تحقیق کرنی چاہئے-

 

Leave a Reply

  1. Wonderful analysis of Education system in most often formerly colonised states, with reference Freire. I would suggest to get it published in some Pakistani newspaper as well.