بنامِ مقتولانِ مصر

مساجد قتل گاہیں بن گئ ہیں، مدارس نفرتوں کے آستانے
وفا و پیار کی دو چار نظمیں، جفا و ظلم کے لاکھوں فسانے
تمہیں کتنا لہو درکار ہے اور، تمہیں کتنے دریدہ جسم چاہیئں
ہاں لاو ظلم کی جھوٹی حدیثیں ہمارے قتل کے رنگیں بہانے
اگر کچھ اور حاجت ہے لہو کی تو آو اے سگانِ بربریت
کہ ہم نے وا کیے درہائے ہستی منور کر دیئے اپنے ٹھکانے
جہاں بھی اس شبِ ظلمت میں دیکھو روشنی واں ھم کھڑے ہیں
تبسم بر لباں، شانہ بشانہ، چار سو ہاں ھم کھڑے ہیں!

Leave a Reply