Categories
افکارِ شکستہ

تنقیدی تدریس کی اہمیت

اس مضمون میں میرے دو مقاصد ہیں- ایک توتعلیم کے بارے میں پاولو فریرے کے اہم تصورات کی وضاحت کرنا اور دوسرا پاکستان کے نظامِ تعلیم کے لئے اس تدریسی فلسفے کی اہمیت کو اجاگر کرنا-
فریرے اپنی انتہای اہم کتاب “پیڈاگوجی اوف دی اوپریسڈ” میں دو مخالف تدریسی نظاموں کو زیرِ بحث لاتا ہے: بنکاری اور تنقیدی تدریس- پر اس سے پہلے کہ میں ان دو تدریسی نظاموں کو بحث میں لاوں پہلے یہ سمجھنا لازمی ہے کہ فریرے آخر کیوں تعلیم اور نظامِ تعلیم پر اتنا ذور دیتا ہے- فریرے کے مطابق دنیاوی نظام بنیادی طور پر ظالمانہ اور ناانصافانہ ہے جس میں دو اہم انسانی دھڑے ہیں: ظالم اور مظلوم. ظالمانہ نظام مظلوموں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کی دنیا قدرتی طور پر ایسی ہی ہے جس میں کچھ لوگوں کو دوسروں پر مالی اور دنیاوی فوقیت حاصل ہے- اسکے مقابلے میں مظلوم طبقہ اپنے حقوق اور اپنی انسانیت برابر منوانے کے لئے مسلسل جدو جہد کرتا ہے- یہ جدو جہد، فریرے کے مطابق، “صرف اس لئے ممکن ہے انسانوں کو غیر انسان اور دوسرے انسانوں سے کمتر سمجھنے کی سوچ قدرتی نہیں بلکہ ایک ناانصافانہ نظام کی پیداوار ہے- اسلئے عوام اسکے خلاف اکثر صف آرا ہوتے رہتے ہیں-” اس تاریخی جدوجہد میں مظلوم طبقہ کے دو فرائض ہیں: “اپنے آپ کو استعماری نظام سے آذاد کروانا اور استعماری طبقے کو بھی انکی ظالمانہ سوچ اور ناانصافانہ اطوار سے رہا کرنا-” اسطرح مظلوم طبقہ دراصل معاشرے کی بہتری کا ضامن ہے- اور مظلوم طبقے کو، فتح کی صورت میں، اپنے سابقہ آمروں کی طرح آمر بننے سے بچانے کے لئے بھی تنقیدی تدریس کی ضرورت ہے-
بنکاری تدریس:
فریرے کے مطابق بنکاری نظامِ تعلیم میں استاد کی مثال ایک بھرے ہوے برتن کی مانند ہے جبکہ شاگرد ایک خالی برتن کی طرح سمجھا جاتا ہے- اس سوچ کے مطابق استاد کا کام اپنی علمی دولت کو شاگرد کے خالی کاسے میں منتقل کرنا ہے- اب اس عمل میں شاگرد کا کام صرف غیر فعال وصول کنندہ کا سا ہے جو کہ نہ صرف اس دولت کو وصول کرے بلکہ بوقتِ ضرورت اس کو من و عن، اپنی سوچ اسمیں شامل کئے بغیر، پیش کر سکے- بنکاری فلسفہ تدریس کے چند اہم نقاط، بقول فریرے، درجِ ذیل ہیں:
(1) اس نظام میں استاد پڑہاتا ہے اور شاگرد پڑہتے ہیں-
(2) استاد ہر شے جانتا ہے اور شاگرد کچھ نہیں جانتے-
(3) استاد سوچ سکتا ہے اور شاگردوں کے بارے میں صرف سوچا جاتا ہے (شاگرد خود اپنی تعلیم کے بارے میں کوئ سوچ نہیں رکھتے)
(4) استاد بولتا ہے اور شاگرد خاموشی سے سنتے ہیں-
(5) استاد منظم ہے اور شاگرد تنظیم شدہ-
(6) استاد عمل کرتا ہے اور شاگرد صرف استاد کی مرضی کے مطابق عمل کرتے ہیں-
(7) استاد نصاب کی ترتیب دیتا ہے اور شاگرد، جن کی نصاب کے بارے میں رائے نہیں پوچھی جاتی، اس نصاب کو اپناتے ہیں-
(8) استاد اپنی علمی سعادت کو شاگردوں پر اپنی قوت کا ذریعہ جانتا ہے اور اپنی قوت کو شاگردوں کی آذادی سلب کرنے میں استعمال کرتا ہے-
(9) استاد اس نظامِ تعلیم میں فاعل کا درجہ رکھتا ہے جبکہ شاگرد مفعول سمجھے جاتے ہیں-
اب اس سب سے ایک شے واضح ہو جاتی ہے کہ بنکاری نظامِ تدریس میں طلبا کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی اور انہیں کیا پڑہنا ہے اور کیسے پڑہنا ہے پہلے سے ہی مقررہ ہوتا ہے- یہ نظام اس طرح اس نوآبادیاتی نظام سے کوئی اتنا مختلف نہیں جس کا ذکر میں نے ایک پہلے مضمون میں کیا تھا- فریرے کے مطابق جب طلبا بنکاری نظامِ تدریس سے گذرتے ہیں تو انکی سوچ اور اطوار ایک خاص رنگ میں رنگے جاتے ہیں، جن کا ذکر فریرے کچھ ایسے کرتا ہے:
اس نظام میں طلبا جتنی ذیادہ توانائی انکو دئے ہوئے اسباق کو یاد رکھنے پر صرف کرتے ہیں انکے پاس ذاتی تنقیدی سوچ کو مضبوط بنانے کیلئے اتنا ہی کم وقت ہوتا ہے- اور جتنا ذیادہ وہ اپنا یہ غیر فعال کردار قبول کر لیتے انکی ذات اتنی ہی ذیادہ ظالم اور آمرانہ نظام کے شکنجے میں پھنستی جاتی ہے- اسطرح بنکاری نظامِ تعلیم طلبا کی تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو شل کر کے انکو آمروں کے نظام کا پرزہ بنائے رکھتا ہے- اور کیونکہ ان کے ہاتھ اپنے معاشرے پر تنقیدی نظر سے دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ صرف نظام کی تقلید میں مصروف رہتے ہیں اور اسکو نئی سوچ میں ڈھالنے کی صلاحیت سے معذور رہتے ہیں-
اب بنکاری نظام کی ان چیدہ چیدہ خصوصیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ذرا پاکستان کے حالیہ نظامِ تعلیم پر ایک نظر ڈالئے- پاکستانی تعلیمی نظام کے ہر درجے پر یہی بنکاری نظام نافظ ہے- سکولوں اور یونیورسٹیوں کا مقصد صرف نصاب پڑھانا ہے اور اس نصاب کو چننے اور نافظ کرنے میں طلبا، اور بعذ اوقات اساتذہ، کا کوئی کردار نہیں- اسکے علاوہ طلبا کسی بھی لیول پر موجودہ نظام یا نصاب پر تنقیدی نظر ڈالنے کی تربیت نہیں حاصل کر رہے بلکہ انکے لیئے صرف نصاب کو جاننا ہی اہم ہے- مثال کے طور پر اگر ایک طالب علم معاشیات پڑھ رہا ہے تو اسے صرف حالیہ معاشیات کے اصول ہی پڑہائے جائیں گے، ان اصولوں پر تنقیدی سوچ رکھنا نہیں پڑہایا جائے گا- یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستانی تعلیمی نظام اس بنکاری فلسفے کی وجہ سے نوجوانوں کو تقلید کی تربیت دے رہا ہے کیونکہ اس نظام میں انکی کامیابی کی ضامن نئی اور منفرد سوچ نہیں بلکہ پرانی سوچ اور نصابی علم کا جاننا ہی انکے تعلیمی سفر کی آخری منزل ہے- اسطرح ہمارا نظامِ تعلیم اب بھی نو آبادیاتی ہے اور اب بھی ہمارے معاشرےکےاونچے طبقے کی بقا کے ضامن کا کردار ادا کر رہا ہے-
تنقیدی تدریس:
تنقیدی تدریس کی بحث شروع کرنے سے پہلے (یہاں یہ ذہن میں رکھیں کے فریرے خود “تنقیدی تدریس” کی اصطلاح استعمال نہیں کرتا لیکن جس نظامِ تدریس کو وہ زیرِ بحث لاتا ہے اسے آج کل تنقیدی تدریس کہا جاتا ہے)، فریرے ذبان یا الفاظ کی اہمیت زیرِ بحث لاتا ہے- فریرے کے مطابق “ہر سچا لفظ ایک لفظ ہونے کے ساتھ عمل بھی ہوتا ہے-” اسطرح سچا لفظ بولنا اور لکھنا بھی کسی طرح راست عمل سے مختلف نہیں- اسی طرح اپنے حق میں بولنا ہر انسان کا فطری حق ہے- اور اس دنیا میں ہمارا ایک اہم کام بطور انسان یہ ہے کہ ہم “دنیا کو وہ نام دیں جس سے دنیا بدل سکے-” لیکن یہ سچا لفظ نہ تو کوئی اکیلے بول سکتا ہے اور نہ کسی اور کے نام مین، بلکہ اس سچ کو بولنے کے لئے تمام مظلوم طبقے کو مل کر وہ الفاظ بولنے ہونگے جن سے دنیا بدل جائے- اور یہ سب کرنے کے لئے آپس میں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے- ایک ایسا ڈایئلاگ جو باہمی محبت پر مبنی ہو-
اس حساب سے تنقیدی تدریس وہ تدریس ہے جس میں بنکاری نظام کی بجائے “سوال پوچھنے والی تعلیم” (تنقیدی تدریس) کے ذریعے انسان دنیا کے ساتھ اپنے تعلق پر سوچیں اور سوال پوچھیں- الغرض اسطرح کی تعلیم جس میں “سوچ کو نہ صرف دنیا کا شعور ہو بلکہ سوچنے کا شعور بھی ہو-”
پاکستان کے لئے پھر یہ تدریس ایسی تدریس ہو گی جس میں طلبا نہ صرف علم حاصل کریں بلکہ اس علم کے سفر میں دیئے گئے علم کے بارے میں تنقیدی شعور سے سوچ بھی سکیں- اور اس سفر میں اساتذہ پر بھی یہ لازم ہے کہ وہ طلبا سے سیکھیں اور انکو تعلیمی سرگرمیوں میں فعال شرکا کا درجہ دیں- فریرے اپنی کتاب میں اساتذہ اور طلبا کے درمیان اس رشتے کو استوار کرنے کے تمام مرحلے بیان کرتا ہے جو کہ میں یہاں ذیرِ بحث نہیں لانا چاہتا پر ان تمام مراحل کا مدومدار اس سوچ پر ہے کہ تعلیم کا اہم مقصد طلبا کو اپنے معاشرے اور اسکے بقیا نظاموں پر تنقیدی نظر ڈالنے کی تعلیم دی جائے اور ایسی ہی تعلیم انہیں ذہنی غلامی سے آذاد کروا سکتی ہے-

اس کے جواب میں کچھ اساتذہ اور سکول منظمین یہ کہیں گے کہ ان کی ذمہ داری ایک مقرر شدہ نصاب پڑہانا ہے اور اسکے علاوہ طلبا کو تنقیدی سوچ پڑہانا نہ تو ان کا کام ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کی اجاذت دی جائے گی- اب یہ ذہن میں رکھیے کہ فریرے کی نظر میں یہ تنقیدی تدریس انقلابی تدریس ہے جس میں مفکر اور اساتذہ سکول سسٹم سے باہر مزدوروں، کسانوں اور دوسرے غریب لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں- لیکن اسکا استعمال حالیہ سکول سسٹم میں بھی ممکن ہے- ہم اپنی تدریس کے دوران طلبا کو کتبی نصاب کو اپنی روز کی ذندگی کی روشنی میں دیکھنے کی تعلیم دے سکتے ہیں- اسی طرح بجائے نصاب کو عین حق کے طور پر پڑہانے کے ہم انہیں نصاب پر تنقید کرنے کی تربیت بھی دے سکتے ہیں- اس دوران ہم اپنے طلبا سے یہ بھی سیکھ سکتے ہیں کہ انکو پڑھانے کی کونسی مشق انکے لئے سب سے ذیادہ موثر ہے- الغرض طلبا کو انکی اپنی تعلیم میں حصہ دار بنا نے کے مختلف طریقے ہیں-

چند ممکنہ تنقیدی تدریسی اقدامات
تمام اساتذہ اگر چاہیں تو اپنی کلاسوں میں کچھ نہ کچھ تنقیدی تدریسی طریقے استعمال کر سکتے ہیں- مثال کے طور پر اگر آپ بزنس یا معاشیات پڑہا رہے ہیں تو بجائے حالیہ غالب نظام من و عن پڑہانے کے اس نظام پر تنقیدی ذاویہ نظر بھی ذہن میں لائیں اور اسکے ساتھ اپنے طلبا کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ وہ اس نظام میں اپنی ذندگی کے بارے میں سوچیں اور پھر ان خیالات کا اذہار کریں- اسی طرح ادب کی کلاسوں میں بھی طلبا کو کتاب سے باہر کی دنیا کے بارے میں سوچنے کی عادت ڈال سکتے ہیں- الغرض اساتذہ کی کوشش یہ ہونا چاہئے کہ انکے شاگرد بجائے موجودہ نظام کے غلام بننے کے اسکے نقاد بنیں اور پھر ایک نیا اور پر انصاف نظام سوچیں-
اگر ہم نے طلبا کو جمہوریت کی اہمیت سکھانا ہے تو جہاں تک ممکن ہو ہمارا طریقہ تدریس بھی جمہوری ہونا چاہیے- میں اپنی کلاسوں میں بعض اوقات طلبا کو کسی بھی مشق یا امتحان کو تبدیل کرنے کے لئے انہیں اس پر ووٹ کرنے کی دعوت دیتا ہوں- اس مشق میں طلبا خود نہ صرف ایسا طریقہِ امتحان چنتے ہیں جو انکے لئے بہتر ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ جمہوریت اور جمہوری نظام کا بنیادی طریقِ کار بھی سیکھتے ہیں-

الغرض طلبا کو انکی اپنی تعلیم میں فاعلی حیثیت دینے کے بہت سے طریقے ہیں اور ہمیں اور بھی نئے اور موثر طریقوں پر مزید تحقیق کرنی چاہئے-

 

Categories
افکارِ شکستہ

نو آبادیاتی نظام تعلیم  کے حالیہ پاکستان پر اثرات

گو کہ پچھلی دہائ میں پاکستان نے اعلا تعلیم اور بنیادی تعلیمی پالیسی میں کافی ترقی کی ہے، پاکستان کی ذیادہ تر تعلیمی پالیسیاں، تعلیمی نصاب اور تعلیم کی ترسیل کا نظام اب بھی نظریاتی طور پر ہمارے نو آبادیاتی دور غلامی کے  اثر میں ہے- اسکی وجہ سے تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھنے کے باوجود پاکستان کی اجتماعی اور مفکرانہ سوچ میں کوئ اتنا بڑا فرق نظر نہیں آتا۔ میرے اس دعوے کو سمجھنے کے کئے ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہو گا کہ نو آبادیاتی تعلیمی نظام سے میری کیا مراد ہے(اس کالم میں صرف بنیادی تعلیم کے بارے میں لکھ رہا ہوں اگر وقت ملا تو اعلا تعلیم پر بعد میں کچھ لکھوں گا)

نو آبادیاتی تعلیمی نظام تعلیم کا وہ نظام ہے جو برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی استعماری حکومت کے دوران قائم کیا- اس موضوع پر بہت سے مفکرین نے بہت اچھی تحقیق کی ہے جن میں بروس مکلی اور گوری وشواناتھن کا کام بہت اہم ہے  پر میرے لئے اس موضوع پر کینیا کے مفکر اور کلمکار انگوگی تھیانگو کا کام بہت اہم ہے کیونکہ وہ نہ صرف اس نظام کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اس نو آبادیاتی تعلیمی نظام کے منفی اثرات پر بھی توجہ دیتے ہیں-

قومی زبان کے تیں اہم مقاصد

انگوگی کی نظر میں کوئی بھی علاقائی یا قومی زبان اسکو استعمال کرنے والی برادری، قبیلے، یا قوم کی ذندگی میں تین اہم بنیادی کردار ادا کرتی ہے:

(1) کسی بھی معاشرے میں کا م کی تقسیم (Division of Labor) اور اس میں تمام لوگوں کے فرائیض کے سمجھنے کے لئے ایک مقامی یا قومی زبان ضروری ہے-

(2) ایک مشترکہ زبان کسی بھی معاشرے میں آپس میں بات چیت کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کیلیئے لازم ہے-

(3) ایک مشترکہ زبان کا سب سے اہم مقصد ایک معاشرے کی اہم تاریخ، داستانیں، کہانیاں، اور حکایات ایک نسل سے اگلی نسل تک پہنچانا ہے- اس لحاظ سے ایک زندہ قومی یا علاقائی زبان نہ صرف ایک دوسرےکو سمجھنے کیلئے ضروری ہے بلکہ اس کا سب سے اہم مقصد کسی بھی معاشرے کی ذاتی تاریخی پہچان کو محفوظ رکھنا اور اسکو اگلی نسل تک پہنچانا ہے-

نوآبادیاتی دور میں تعلیمی نظام کے منفی اثرات

انگوگی کے مطابق، نوآبادیاتی نظام میں جب علاقائی اور قومی زبانوں کی جگہ نوآبادیاتی آقاوں کی زبان نافظ کر دی جاتی ہے تو اس عمل کے انتہائ منفی اثرات آزادی کے بعد بھی جاری رہتے ہیں- استعماری نظام کے دوران کےچند نقصانات، انگوگی کے مطابق، درجِ ذئل ہیں:

(1) اس نظامِ تعلیم میں جب دیسی بچے اپنے گاوں یا محلے سے نکل کر انگریزی مدرسے میں داخل ہوتے ہیں تو ان پر اس تعلیم کا اثر معاشرتی، عقلی، اور نفسیاتی ہوتا ہے-

(2) معاشرتی لحاظ سے تمام بچےاور انکے والدیں یہ لازمی جانتے ہیں کی بغیر انگریزی پڑہے وہ اس نظام میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے-

(3) معاشرتی ضمن میں یہی بچے انگریزی پڑہنے کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب، تاریخ، اور باقی انگریزی علوم کو اپنی قومی تاریخ، ادب، اور علوم سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں کیونکہ ان بدیسی علوم کا جاننا نوآبادیاتی نظام میں انکی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے-

(4) نوآبادیاتی تعلیم کا سب سے بڑا منفی اثر نفسیاتی ہے- اس تعلیم کے دوران دیسی طلبا نہ صرف انگریزی تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ حصولِ تعلیم کے دوران وہ اپنے کلچر اور تاریخ کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں اور انگریزی زبان، ادب، اور کلچر کی بالادستی کو ذھنا” اور عملا”بہتر قبول کر لیتے ہیں- نتیجتا” یہ لوگ نہ صرف بدیسی اطوار کو اپنی ذاتی پہچان کا حصہ بنا لیتے ہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ دیسی کلچر اور اطوار کی نفرت بھی انکی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے-

نتیجتا” یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ نوآبادیاتی تعلیم کے سب سے منفی اثرات خود نفرتی اور اپنے دیسی کلچر کی نفرت ہیں- اور جب کوئی بھی انسان اپنے بنیادی کلچر سے متنفر ہو جاتا ہے تو کسی بھی بیرونی قوت کے لئے اسکو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے- یاد رہے کے ہندوستان میں انگریزی تعلیم کے نفاظ کا ایک اہم مقصد، بطور لارڈ میکالے، یہ بھی تھا کی دیسی لوگ دیسی ہی رہیں پر انکی سوچ “انگریزی بن جائے”- اب یہ بھی ذہن میں رکھیئے کہ دیسی لوگوں کو انگریزی پڑہانے کا مقصد انکو نئی سوچ اور نئے علوم سے لیس کرنا نہیں تھا- بلکہ اس نظامِ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ اتنا کچھ پڑھ لکھ جائیں کے انکے کے لیئے اپنے بدیسی حکمرانوں کے احکامات سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں آسانی ہو- اسی لئے ہندوستان میں نافظ شدہ انگریزی نظامِ تعلیم میں بجائےچیزون کے سمجھنے کے رٹے اور بنیادی لکھائی پڑہائی پر ذور تھاجسکی وجہ سے دیسی لوگ اچھے کلرک اور منشی تو بن سکتے تھے پر انکی سوچ نہ تو تنقیدی ہو سکتی تھی اور نہ ہی قائیدانہ- اسکے علاوہ جتنا ذیادہ وہ اپنے بنیادی کلچر سے دور ہو جاتے تھے انکو انکی نوآبادیاتی شخصی پہچان میں پھنساے رکھنا اور بھی آسان تھا- اب ہمیں معلوم ہے کہ انگریز کو ہندوستان میں ناکامی ہوئ جسکی بہت سی وجوہات ہیں پر اسکی سب سے اہم وجہ یہ بھی ہے کی ہندوستان میں دیسی ذبانوں کی ایک مکمل تاریخ موجود تھی اور انگریزی نصاب اس علم کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہا- اسکے علاوہ ہمارے قائیدیں اور سیاسی رہنماوں نے انگریزی علم اور دیسی علم کو ملا کر انگریز کے خلاف ایک موثر سیاسی لاہِ عمل ترتیب دیا جو کہ، اوروجوہات کے ساتھ ساتھ، ہماری آزادی کا سبب بنا- بہرحال یہاں میرا مقصد پاکستاں کی تحریکِ آزادی کی تاریخ دہرانا نہیں بلکہ، اس مختصر بحث کے بعد، پاکستان کے موجودہ نظامِ تعلیم پر ایک نظر ڈالنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ کیا یہ ایک آزاد و خودمختار ملک کا نظام ہے یا ابھٰی تک نوآبادیاتی اصولوں پر مبنی ہےتعلیم کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے یہ سمجحنا بھی لازم ہے کہ آخر ایک قومی نظامِ تعلیم کے مقاصد کیا ہیں- اس ضمر میں مجھےقومی تعلیم کی اہمیت اور مقاصدپر ارنسٹ گلنر کے خیالات بہت اہم لگتے ہیں- گلنر کی رائے میں ایک قومی نظامِ تعلیم دو درجوں پر قومی سالمیت پر اثر انداز ہوتا ہے:

(1) قومی نظامِ تعلیم کا ایک مقصد یہ ہے کہ کسی بھی قوم کے شہریوں کو کم ازکم اتنی تعلیم ضرور دی جائے کہ وہ قومی معیشت میں مختلف قسم کے کام سرآنجام دے سکیں-

(2) قومی نظامِ تعلیم کا دوسرا، اور ذیادہ اہم، مقصد یہ ہے کے تعلیم کے ذریعے مسلسل ایک ایسے پڑھے لکھے طبقے کی تربیت کی جائے جو نہ صرف اوپر درجے کے انتظامی اور تکنیکی فرائض سرانجام دے سکے بلکہ جو ایک اعلا قومی سماج تشکیل کرنے میں مشغول رہے- اب یہ ذہن میں رکھئے کہ گلنر کے لئے ایک اعلا قومی سماج (National High Culture) کی تشکیل کسی بھی قوم کی بقا اور ترقی کے لئے بہت ضروری ہے- لحاظہ گلنر کا نظریہ یہ ہے کہ جب ایک قوم ایک مرکزی اعلا سماج بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس قوم کے تمام لوگ اس قومی منصوبے کا حصہ بننے کے لئے وہ سب چیزیں سیکھنے کے خواہشمند ہو جاتے ہیں جن کی بنا وہ اپنے آپ کواس مرکزی قوی سماج کا حصہ بنا سکیں اور اسطرح اپنے علاقائی اور قومی حقوق کا تحفظ کر سکیں-

تعلیم اس طرح نہ صرف لوگوں کو مختلف پیشوں کے لئے تیار کرتی ہے بلکہ حصولِ تعلیم کے دوران انکو قومیت اور قوم پروری کی تعلیم بھی دی جاتی ہے- اب یہ چند سوچیں اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے، پاکستان کے موجودہ نظامِ تعلیم پر میرے بقیہ خیالات پڑہیے-

پاکستان کا موجودہ نظامِ تعلیم

پاکستاں کا بنیادی اور اعلا تعلیمی نظام اب بھی دو دھڑوں پر مشتمل ہے: سرکاری سکول اور پرائویٹ سکول- مزید پرایویٹ سکول بھی انگلش میڈیم اور مذہبی مدارس میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں- اسی طرح اعلا تعلیم بھی سرکاری اور نجی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تقسیم ہے-

سرکاری سکول

بنیادی تعلیم کے سرکاری سکول اب بھی نوآبادیاتی نظام پر چل رہے ہیں- ان سکولوں میں اب بھی علوم کو سمجھنے اور ان پر تنقیدی سوچ سے سوچنے کی بجائے رٹے پر ذور ہے- کیوںکہ تمام طلبا کو ہشتم اور میٹرک کے امتحانات صوبائ یا وفاقی بورڈ کے تحت دینا پڑتے ہیں اسلیئے تمام سکول آٹھویں اور دسویں جماعت کا سارا سال بورڈ کے امتحان کی تیاری پر صرف کرتے ہیں- ظاہر ہے کہ اگر اساتذہ اور طلبا کی تمام توجہ بورڈ کے امتحان کی تیاری پر ہو گی تو ان کے پاس رٹے کے علاوہ مضامین پر علمی بحث و مباحثے کا وقت ہی نہیں ہو گا- نتیجتا” یہ طلبا اب بھی اسی طرح کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جسکی بنیاد ہمارے برطانوی آقاوں نے رکھی تھی: ایسی تعلیم جو لوگوں کو اچھا کلرک تو بنا سکتی ہے پر انہیں تنقیدی سوچ اور فکر سے روشناس نہیں کروا سکتی-

ان سکولوں میں اساتذہ کا نہ تو تعلیمی معیار کوئ اتنا اچھا ہے اور نہ ہے انکو بہتر تنخواہیں اور باقی سہولیات یا تربیت کے مواقع مہیا کیے جاتے ہیں- نتیجتا” سرکاری سکولوں کے ذیادہ تر اساتذہ بہت مشکل حالات میں اپنی تدریسی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کرتے ہیں- اس کے علاوہ ان سرکاری سکولوں میں نافظ شدہ نصاب بھی یا تو بہت پرانا ہے یے اور یا ان لوگوں کا مرتب شدہ ہے جنکو جدید تعلیمی تحقیق کا کچھ بھی علم نہیں- اگر دیہی سرکاری سکولوں پر نظر ڈالی جائے تو حالات اور بھی افسوسناک ہیں- ذیادہ تر دیہی سکولوں میں نہ تو عمارات اور باقی سہولتیں بہتر حال میں ہیں اور نہ ہی ان سکولوں میں اساتذہ اور سٹاف کی تعداد اور تربیت دیہی طلبا کے ضرورت کے مطابق ہے- ان سب عوامل کی وجہ سے سرکاری سکول اس وقت تعلیم کی قومی ترسیل کے بنیادی فرائض ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں- یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سرکاری سکول نہ تو طلبا کو بنیادی ہنر سکھا رہے ہیں اور نہ ہی کوئ ایسی سوچ پیدا کر رہے ہیں جو پاکستان کے اعلا قومی سماج کی ترقی اور سالمیت کیلئے مددگار ہو- ایک لحاظ سے اس ضمن میں ہم اب بھی وہی نوآبادیاتی ذہنیت پڑہا رہے ہیں جو برطانیہ نے اپنے دورِحکومت میں نافظ کی تھی-

نجی سکول
انگلش میڈیم:

نجی سکولوں میں اسوقت تمام پاکستانی شہروں میں انگلش میڈیم سکولوں کا بہت ذیادہ رواج ہے انمیں سے کچھ سکول سسٹم اب بھی قومی نصاب کا استعمال کرتے ہیں اور انگریزی کو صرف اس نصاب کی تدریس کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے سکول میری نظر میں اب بھی نصاب کے علاوہ بچوں کو انکے اپنے کلچر ، تا ریخ اور ثقاوت سے کچھ حد تک منسلک رکھتے ہیں۔ مثال کے طار پر آرمی پبلک سکول سسٹم اور کچھ پرانے ماڈل سکول۔ مگرگو کہ ان سکولوں میں قومی ذبان اور ثقافت کو پڑہایا جاتا ہے، پھر بھی ان سکولوں میں تنقیدی سوچ مضبوط کرنے پر اتنی ذیادہ توجہ نہیں دی جاتی- اسکے نتیجے میں ان انگلش میڈیم سکولوں کے طلبا اپنے کلچر اور ثقافت کا علم تو رکھتے ہیں پر اس پر گہرا غوروفکر کرنے کی مہارت حاصل نہیں کر پاتے- ان سکولوں کے طلبا اس طرح کامیاب فوجی اور سول افسر تو بن سکتے ہیں پر قوم کے بارے میں نئے خیالات اور نئے راستے سوچنے کی تنقیدی سوچ نہیں رکھتے- یہاں یہ کہنا حق بجانب ہو گا کے ان سکولوں کا مقصد بھی نو آبادیاتی ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ ان سکولوں میں پاکستان کا حالیہ معاشی اور کلاس سسٹم سچ کے طور پر پڑہایا جاتا ہے-

لیکن ذیادہ تر بڑے پرائویٹ سکول اب برطانوی نصاب استعمال کر رہے ہیں اور ان سکولوں میں ہماری مقامی تاریخ، ثقافت، اور ادب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ لحاظہ ان سکولوں میں تعلیم پانے والے طلبا کو تنقیدی سوچ تو سکھائ جاتی ہے پر اس سوچ کا منبع اور رجحان خالص مغربی ہے- مزید بر آں یہ سکول اس چیز پر فخر کرتے ہیں کہ انکے ذیادہ تر طلبا امریکہ، کینیڈا، اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں داخلے حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں- اس لئے ان سکولوں کا سارا نصاب اور باقی تدریسی کاروایوں کو فوکس ان طلبا کو بیرونِ ملک داخلے دلوانا ہے- اس کے نتیجے میں ان سکولوں کے طلبا نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو تب کامیاب سمجھتے ہیں جب کوئ غیر ملکی یونیورسٹی انکو داخلہ دے. اس صورت میں یہ کہنا بجا ہو گا کے ان طلبا کے لیئے کامیابی صرف پاکستان سے فرار پر مبنی ہے- اور ان میں سے جو پاکستان سے باہر نہیں جا سکتے وہ اپنے آپ کو ناکامیاب سمجھتے ہیں- یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ان سکولوں کے طلبا نہ صرف پاکستان کے سب سے اونچے معاشی طبقے سے آتے ہیں بلکہ وہ اپنے طبقے کے باہر کے تمام پاکستانیوں کو اپنے سے کمتر جانتے ہیں- اس طرح نجی اداروں میں یا تو تنقیدی سوچ نہیں پڑھائ جا رہی اور اگر پڑھائ بھی جارہی ہے تو اس سوچ کا رخ اور رجحان یورپ اور امریکہ کی طرف ہے۔ اب اس صورت میں یہ دو پرائویٹ تعلیمی نظام دو مخطلف طریقون سے پاکستان کے لئے اچھے اور ذمہ دار شہری بنانے میں ناکام ہورہے ہیں-

مذہبی مدارس:

پاکستان کے نظامِ تعلیم کا ایک اور بڑا حصہ مذہبی مدارس ہیں۔ یہ مدارس عموما” یا تو چندے اور صدقے کے پیسے سے چلائے جاتے ہیں اور یا کسی سلامی سیاسی پارٹی اور کئی دفع سعودی عرب یا اور مسلمان ملکوں کے عطیے پر چلائے جاتے ہیں۔ یہاں یہ یاد رکھنا لازم ہے کہ یہ مذہبی مدارس عموما” غریب اور یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں اور ہمیں کبھی بھی انکی یہ اہمیت بھلانا نہیں چاہئے۔ پر ان مدارس میں بھی طلبا کو پاکستان کے شہری بننے کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ بلکہ اب تو ذیادہ تر مدارس جو حکومت کی پہنچ سے باہر ہیں اپنے طلبا کو جہادی تعلیم و تربیت دے رہے ہیں اور اس تعلیم کی بدولت ان طلبا کی وفاداریاں بجائے اپنی قوم کے ساتھ ہونے کے یا تو سیاسی پارٹیوں کے ساتھ منسلک ہیں اور یا انکے غیرملکی کفیلوں کے ساتھ اور یا انکے مدرسے کے مذہبی فرقے کے ساتھ۔ اسطرح تعلیم کی ترسیل کے یہ ادارے بھی ذیادہ تر پاکستانیت کی تعلیم دینے کی بجائے اکثر پاکستان دشمنی کو بڑہانے کا سبب بنتے ہیں۔

مستقبل کا لائحہِ عمل

اگر ہم اس بات پر متفق ہیں کے بنیادی تعلیم کا ایک اہم مقصد طلبا کو اپنے کلچر سے متعارف کروانا ہے تا کہ تمام برآمد شدہ سوچ کو اپنے کلچر کی کسوٹی پر پرکھ سکیں اور اس طرح پاکستان کے روشن خیال اور ذمہ دار شہری بن سکیں تو پھر ہمیں اپنا نظامِ تعلیم تبدیل کرنا ہو گا- یہ تبدیلی ایسی ہونی چاہئے جس میں ہم مغرب میں موجود اہم تعلیمی اور ثقافتی تحقیق و ترقی کو سوچ سمجھ کر اپنائیں اور ایک ایسا نظام قائم کریں جو کہ قومی اور بین الاقوامی سوچ اور تحقیق سے مستفید ہو سکے- ایسے نظام میں نہ تو ہمیں اپنی قومی ثقافت کو قربان کرنا پڑے گا اور نہ ہی مغرب میں موجود بہتر سوچ اور خیالات کو رد کرنے کی ضرورت ہو گی-

بنیادی تعلیم میں اسطرح قومی اور علاقائ ذبانوں اور ادب کے ساتھ انگریزی ذبان اور ادب اسطرح سے پڑہایا جانا چاییے کہ دونوں کے بہترین اوصاف ھماری ثقافت اور قومی سوچ کا حصہ بن جایئں- اب یہ سب کچھ کرنے کے لیئے ہمیں تعلیم پر اپنے قومی بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرنا پڑے گا اور سکول و مدارس بنانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور سکول سسٹم کے ناظمین کی بہتر تربیت کے وسائیل بھی مھیا کرنے ہوںگے- یہ سب کچھ اور اس سے بھی ذیادہ بہت   جلدکرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہماری معاشی ترقی اور دفاعی قوت بھی پاکستان کے مستقبل کو بچانے میں ناکام ریے گی

Categories
افکارِ شکستہ

اقتصادی نجکاری کے چند اہم نقصانات

جب سےنواز شریف صاحب پاکستانی سیاست میں آئے انہوں نے ملک کے معیشت کی نجکاری کو ہمارے تمام مسائل کے حل کے طور پر پیش کیا ہے- اگر آپکو یاد ہو، نجکاری کا سب سے پہلا اقدام نواز شریف کی پہلی حکومت میں مسلم کمرشل بینک کی منشا گروپ کو فروخت تھا- اس قومی نجکاری کے فلسفے کے مطابق نجی اور پرائیویٹ اداروں کو حکومتی اداروں کے مقابلے میں بہتر، موثر، اور منافع بخش سمجھا جاتا ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ پرائیویٹ ادارے اور کاروبار حکومتی اداروں کے مقابلے میں ذیادہ منافع بخش اور موثر ہو سکتے ہیں اور یہ سوچ اسوقت ان تمام ممالک میں غالب یے جہاں حکومت کے کامںوں اور اداروں کو منافع بخش بنا دیا گیا ہیے- علمِ معاشیات میں اس فلسفے کو نیو لبرلزم کہا جاتا ہے-
بنیادی طور پہ نیولبرلزم حالیہ اقتصادیات کا رخ انیسویں صدی کے ماہرِ اقتصادیات ایڈم سمتھ کے نظریات کی طرف موڑنے کا عمل یے اور اس کے چند اہم نقاط درجِ ذیل ہیں:
(1) تمام معاشی اور اقتصادی سرگرمی میں حکومت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہئے-
(2) تجارت بین الاقوامی ہونی چاہئے اور اس میں قومی حکومتوں کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہئے-
(3) بجائے حکومت کے قوانیں کے کمپنیوں کا آپس میں مقابلہ(competition) اور فری مارکٹ (Free Market) کو بطور کنٹرول قبول کرنا چاہئے- اسطرح اس کھلے مقابلے میں صرف بہتر کمپنیاں آگے آیئں گی اور ان کمپنیوں کے آپس میں مقابلے کے فوایئد صارفیں کو پہنچیں گے-
(4) کیونکہ سرمایہ دار ہمیشہ اپنا اضافی سرمایہ مزید سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں، جس سے لوگوں کے لئے نئی نوکریاں وجود میں آتی ہیں، اسلئے ان پر ٹیکس کم سے کم ہونا چاہئے تا کہ وہ ذیادہ سرمایہ مارکیٹ میں لگائیں اور مزید لوگوں کیلیے کام اور بہتر نوکریاں مہیا کریں-
(5) اسطرح قومی دولت بجاے حکومت اور “بد عنوان” انتظامیہ کے ہاتھوں ضائع ہونے کے مارکیٹ کے ذریعے براہِ راست لوگوں تک پہنچ جایے گی-

ظاہر ہے کہ یہ نیو لبرل اقتصادیات کے چند اہم نقات ہیں- ان اصولوں پی مبنی نظام اسوقت تقریبا” تمام دنیا پر چھا چکا ہے اور نواز شریف صاحب کی اقتصادی پالیسیاں انہیں نضریاتی اصولوں پر مبنی ہیں- اس میں کوئ شک نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ نظام کافی حد تک کامیاب رہا ہے لیکن اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وھاں پر اس نظام کی نفاظت سے پہلے زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی ہو چکی تھی اور قانون کی بالادستی کے علاوہ عوام کے حقوق بھی کافی حد تک محفوظ تھے- لیکن ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس نئے نظام میں امرا اور عام لوگوں کے درمیان معاشی فاصلہ انتہائی حد تک بڑہ گیا ہے اور جہاں چند لوگ بہت دولت مند ہوئے ہیں وہاں غربت اور افلاس میں بھی اضافہ ہوا ہے- ان اقتصادی پالیسیوں کا ترقی پذیر ممالک پر اس سے بہت ذیادہ گہرا اور منفی اثر پڑتا ہے- 1

معاشی تفرقے کے علاوہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ان اقتصادی پالیسیوں کے نقصانات سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے بہت خطرناک ہیں- یہ سب سمجھنے کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کی حکومت کس طرح عوام کی بہتری کیلئے لازمی ہے- اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کی ایک ملک اور اسکی حکومت کس طرح اپنے لوگوں کی وفاداری حاصل کرتی ہے- میں یہاں کیمرون کے فلسفی اور مفکر ایچلے ممبے کے خیالات سے استفادہ کر ریا ہوں- 2 ممبے کے مطابق کسے بھی حکومت کو اپنے آپ کو قانونی اور جائز منواینے کے لئے معاشرے میں حکومت اور عوام کے درمیان ایک “سماجی قرض” کا رشتہ استوار کرنا ھوتا ہے- جب عوام اپنے آپ کو حکومت کے ساتھ ایک سماجی قرض میں مشمول جانتے ہیں تو انکی وفاداریاں بجائے کسی متمول شخص اور پرائیویٹ گروپ کے ساتھ ہونے کے، حکومت اور ملک کے ساتھ منسلک رہتی ہیں-

کوئ بھی حکومت یہ سماجی قرض اپنی غریب پروا پالیسی، مفت تعلیم، سرکاری نظامِ صحت، اور بہت سی دیگر عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے قائم کرتی ہے- دوسرے الفاظ میں ریاست اور حکومت اپنے عوام کی وفاداری کی حقدار صرف اور صرف ایک فلاحی حکومت اور ریاست کے طور پر ہو سکتی ہے- ممبے کے مطابق تمام نئی آذاد شدہ ریاستیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، سب سے پہلے ایک حکومتی تنخوادار طبقے کی تخلیق کے ذریعے ایک قومی سماجی قرض اور حکومت اور عوام کے درمیان تعاون کے نظام کی بنیاد رکھتی ہیں- اس ضمن میں سرکاری نوکریاں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں- سرکاری نوکریاں نہ صرف دور دراز علاقوں میں شہریوں کو روزگار مہیا کرتی ہیں بلکہ ان علاقوں میں حکومت اور ریاست کے لئے اچھی اور مثبت سوج کا رجحان پیدا کرنے کے لئے بھی اہم ہیں- اسی لیا دیکھا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں عموما” جہاں حکومت کو صرف ایک شخص کی ضرورت ہو وہاں حکومت دو یا تین لوگوں کو ملازم رکھتی ہے- اس سے نہ صرف لوگوں کو روزگار ملتا ہے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ان نوکریوں کے ذریعے ملازمیں اور انکے خاندان کی نظروں میں حکومت اور ریاست کی اہمیت بھی قائم رہتی ہے- کسی بھی ترقی پذیر ریاست کے لئے اس طرح کی ملازمت کے مواقع پیدا کرنا انتہائ ضروری ہے-

اب اسکے مقابلے میں کسی بھی پرائویٹ کمپنی کی ترجیحات کا جائزہ لیں- کیوںکہ تمام نجی کمپنیوں کا واحد مقصد منافع کا حصول ہے اسلئیے وہ کبھی بھی ضرورت سے ذیادہ لوگوں کو ملازم نہیں رکھیں گے- بلکہ عموما” انکی کوشش یہ ہو گی کے کم ملازمیں سے ذائد کام لے سکیں- اور انکی کاوش یہ بھی ہو گی کے انکے ملازمین کی نوکریاں پکی نہ ہوں بلکہ کچی رہیں تا کہ وہ جب چاہیں ان ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیں- اس صورت میں جب عوام کو نہ تو نجی ملازمت سے فائدہ پہنچے اور نہ ہی انہیں حکومتی تحفظ حاصل ہو تو عوام کا دل ریاست اور حکومت سے اٹھ جاتا ہے اور انکی معاشرتی اور سیاسی وفاداریاں اس شخص اور گروہ کے ساتھ مل جاتی ہیں جن سے انکا معاشی مفاد منسلک ہو-

نتیجتا” جوں جوں ریاست اپنا رفاہِ عامہ کا کام کم کرتی ہے، توں توں عوام اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے نجی اداروں اور گروہوں کا رخ کرتے ہیں- مثالا”، افغانستان میں لوگ ملا عمر کے پاس اس وقت گئے جب انہیں انصاف حاصل کرنے میں اپنی حکومت کی طرف سے کوئ امید نہ رہی- اسی طرح پاکستان میں وہ جوان لوگ جن کے پاس نہ تو تعلیمی مواقع ہیں اور نہ ہی امیدِ روزگار وہی اکثر طالبان اور دوسری جہادی یا جرائم پیشہ تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں- یہ صرف ہوائی باتیں نہیں ہیں- تاذہ تریں تحقیق کے مطابق تمام دنیا مین مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی کے رجحان کے بڑہنے کا اس نئے اقتصادی نظام کے ساتھ براہِ راست تعلق ہے- گو نیو لبرلزم اعلانیہ طور پہ اس چیز کا پرچار نہیں کرتا پر دنیا میں جہاں بھی حکومت اور ریاست نے اپنے آپ کو عوام کی فلاح و بہبود سے مثتثنا قرار دیا ہے وہاں مذہبی اور انتہا پسند گروہوں کی قوت میں اضافہ ہوا ہے-(اس موضوع پر جان ریپلے کی کتاب بہت اہم ہے)

اب یہ بات ہم سب پر عیاں ہے کے پاکستان کے مثائل صرف معاشی نہیں بلکہ سیا سی، معاشرتی، علاقائی، اور عصبی بھی ہیں- ایسے حالات میں پاکستان کا سب سے پڑا مثلہ پاکستان کی قومی شناخت کا ہے- اور یہ مثلہ صرف آقتصادی نجکاری سے حل نہیں ہو سکتا- ان حالات میں ہمیں ایسی سیاسی اوراقتصادی پالیسی کی ضرورت ہے جو ہمیں ایک متحد قوم بنائے- ایک ایسی قوم جس کے شہریوں کو اپنی حکومت پر اعتماد ہو اور جو اپنے ملکی مفاد کو ذاتی مفاد سمجھیں اور یہ سب کچھ صرف پرایویٹ کمپنیاں نہیں کر سکتیں-اس کام میں ہماری حکومت کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا-

Categories
افکارِ شکستہ

نواز شریف کی نا اہلی اور ایک نیا سیاسی نعرہ: چور ای اوئے

پچھلے دنوں میرے پاکستان کے وزٹ کے دوران پاکستانی عدالت عظمہ نے نواز شریف کی سیاسی نا اہلی کا تاریخی فیصلہ دیا جو کہ پاکستانی جمہوریت کے مستقبل کے لئے شاید ایک خوش آیند بات ھے- جیسا کے آپ سب کو معلوم ھے کہ حکومت سے مغزولی کے بعد نواز شریف صاحب نے ایک کاروان کی صورت میں لاھور واپسی کا سفر کیا- یہاں اس سیاسی قافلے پر تنقید کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس کاروان کو ٹی وی پر دیکھتے ہوئے میں نے ایک اہم چیز دیکھی جس کا ذکر کرنا لازمی ہے-
یوں تو اس قافلے میں سابق وزیر اعظم کے مداحوں اور حواریوں کا جوش قابل دید تھا پر سڑکوں کے کنا روں پر کھڑے انکے سیاسی مخالفین کے نئے نعروں پر توجہ دینا اور انکی علامتی اھمیت سمجھنا بہت ضروری ہے. میں نے دیکھا کے جب بھی میڈیا نے اپنے کیمروں کا رخ سڑک کے کنارے کھڑے مخالفین کے طرف کیا تو ان لوگوں نے ھمیشہ ایک آواز میں یہ نعرہ بلند کیا: چور ای اوئے! میری عاجز رائے میں ھم سب کے لیئے اس نعرے کی اھمیت کو سمجھنا بہت اھم ہے.
آج کے دور میں کسی بھی سیاسی مقابلے میں اپنے مخالفین کو ایک نعرے یا ایک دو الفاظ میں واضح اور بے نقاب کر دینا بہت اہم سیاسی قدم ھوتا ہے. مثال کے طور پر امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ اور انکے حواریوں نے ھلری کلنٹن کے لیے Crooked Hillary کی اصطلاح استعمال کی جسکی وجہ سے ٹرمپ کیمپ کے لئے ھلری کلنٹن کو دفاعی سسیاست پر مجبور کرنا آسان ہو گیا- اسکے علاوہ، پروفیسر جارج لیکوف کی ریسرچ کے مطابق، جب بھی آپ اپنے مخالفین کے استعمال کردہ نعروں اور الفاط کے خلاف اپنا دفاع کرتے ہیں تو آپ نہ چاہتے ھوے بھی انھیں کے الفاظ کو مزید قوت عطا کرتے ہیں.
آب اسی چیز کو نواز شریف، اور باقی سارے سرمایہ دار طبقے کو بھی، کے سیا سی مستقبل میں دیکھیں. اب جب بھی وہ میدان سیاست میں واپس قدم رکھیں گے “چور ای اوئے” کا یہ نعرہ انکے استقبال کے لیئے موجود ھو گا. اور بجاے اپنے سیاسی پیغام کی فروغت کے انکا ذیادہ وقت یہ ثابت کرنے میں لگے گا کہ وہ چور نھیں ہیں. اور جتنا ذیادہ وقت وہ اپنے آپ کو “غیر چور ثابت کرنے میں لگائں گے اتنا ھی وہ اس پھندے میں پھنستے جایئں گے.
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس نعرے اور اسکے پیچھے چھپے بیغام کا اطلاق صرف نواز شریف پر ھی ھو گا یا یہ نعرہ ان سب کے خلاف بلند ھو گا جو اپنے آپ کو “حکمران خاندانوں” کا حصہ سمجھتے ہیں اور اپنی کالی دولت کے ذریعے پاکستان اور پاکستانی سیاست کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں- مجھے امید ھے کی اب جب بھی کوئی سرمایہ دار، آجر، جرنیل، یا حکومتی ملازم اپنی دولت کی نمائیش کرے گا تو لوگ بجاے اس سے متاثر ھونے کے انکی دولت کے اصل منبع کے بارے میں سوالات اٹھائیں گے. آور اگر جواب صحیح نہ ھوا تو پھر ھمیشہ اسی نعرے کی صدا آئے گی: چور ای اوئے!